Honey

Friday, 10 February 2017

خاکداں آب گل و گلزار بناجاتا ہے
 دل یہ تیرا ہی فقط تیرا ہوا جاتا ہے
یا خدا باد خزاں کو توپرے ہی رکھنا
 شاخ نازک پہ کوئی پھول کھلا جاتا ہے
تیری خشبو سے معطر میری گلیاں کوچے
 تو مہکتا ہوا نس نس میں بسا جاتا ہے
ماہ روشن ہے چمکتے ہیں ٍفلک پر تارے
 روشنی لینے ترے گھر کو دیا جاتا ہے
تم چلے جاؤ گے سوچیں گے تنہا ہو کر
 بن خشی کے بھی ٰیہاں کیسے جیا جاتا ہے
جرم الفت کی سزا میں ٰیہاں کیوں ا کثر
 صرف عورت کو ہی سنگسار کیا جاتا ہے
حکمراں بن کے نہیں یاد عوام الناس
 ان کا دامن رخ ثروت ہی کھنچا جاتا ہے
بے کسی جس کی بھی جب حد سے گزرتی جائے
 اس کا رونا سر افلاک سنا جاتا ہے