Honey

Sunday, 5 March 2017

تو دل کی زمینوں کا بےتاج شہنشہ ہے
میں تیری مخبت  میں بے چین سی سودائی

Tuesday, 28 February 2017

تو کھلکھلا کے ہنس دے کسی بات پہ مری موج ہوا کی طرح تجھے گدگداؤں میں

Sunday, 26 February 2017

تیرے خیال تیری توجہ کو پا کے میں 
 بسمل کے جیسے صبح و مسا پھڑپھڑاؤں میں

Friday, 10 February 2017

خاکداں آب گل و گلزار بناجاتا ہے
 دل یہ تیرا ہی فقط تیرا ہوا جاتا ہے
یا خدا باد خزاں کو توپرے ہی رکھنا
 شاخ نازک پہ کوئی پھول کھلا جاتا ہے
تیری خشبو سے معطر میری گلیاں کوچے
 تو مہکتا ہوا نس نس میں بسا جاتا ہے
ماہ روشن ہے چمکتے ہیں ٍفلک پر تارے
 روشنی لینے ترے گھر کو دیا جاتا ہے
تم چلے جاؤ گے سوچیں گے تنہا ہو کر
 بن خشی کے بھی ٰیہاں کیسے جیا جاتا ہے
جرم الفت کی سزا میں ٰیہاں کیوں ا کثر
 صرف عورت کو ہی سنگسار کیا جاتا ہے
حکمراں بن کے نہیں یاد عوام الناس
 ان کا دامن رخ ثروت ہی کھنچا جاتا ہے
بے کسی جس کی بھی جب حد سے گزرتی جائے
 اس کا رونا سر افلاک سنا جاتا ہے

Thursday, 9 February 2017

کچھ کہنے بولنے کا نہ آیا ہنر انہیں
دنیا سے چپقلش رہی یہ اہل دار کی
اس روشنی سے بھاگ کے آئے تھے ہم یہاں
گل کر دو ساری بتیاں میرے مزار کی
دل مر گیا تھا سینے میں فوراً اچھل پڑا
آواز جونہی آئ اسے تیری کار کی
شالا تمہارے بازو سلامت رہیں سدا
شدت نہیں ہے پہلے سی اب تیرے وار کی
تیری محبتوں نے ہی بخشا ہے وہ سرور
دنیائے دل کی شکل ہے اب نغمہ زار کی

Monday, 6 February 2017


دل دستکیں سناتا ہے دریا سے پار کی
یہ بھی تو ایک وجہ ہے خوں میں فشار کی
یہ ڈھول باجہ طبلہ نہ بھائے ہمیں کبھی
ہم کو تو بس پسند صدا ہے ستار کی
دوپھول پاس آءے کھلےاور بکھر گئے
یہ مختصر کہانی ہے فصل بہارکی
آنکھوں سے نیند دور ہے پھیلا ہے بحر شب
اور ڈولتی ہے کشتی دل بے قرار کی

For Kashmir day

مرے کشمیر کے گل رنگ جبین و رخسار
دستِ قاتل میں ہو ئے جاتے ہیں چھلنی چھلنی
حکمراں خود ہی رعایا پہ کریں استبداد
پوری تاریخ میں مشکل ہے مثل اس کی ملنی
ہم ہیں آ زادی کے پروانے ہمیں جلنا ہے
شب تاریک میں لازم ہے کرن اک رکھنی
شاہدہ تبسم