Honey

Thursday, 9 February 2017

کچھ کہنے بولنے کا نہ آیا ہنر انہیں
دنیا سے چپقلش رہی یہ اہل دار کی
اس روشنی سے بھاگ کے آئے تھے ہم یہاں
گل کر دو ساری بتیاں میرے مزار کی
دل مر گیا تھا سینے میں فوراً اچھل پڑا
آواز جونہی آئ اسے تیری کار کی
شالا تمہارے بازو سلامت رہیں سدا
شدت نہیں ہے پہلے سی اب تیرے وار کی
تیری محبتوں نے ہی بخشا ہے وہ سرور
دنیائے دل کی شکل ہے اب نغمہ زار کی